پاکستان ایران تجارت

پاکستان ایران تجارت کا مستقبل پابندیوں میں نرمی سے مشروط

پاکستان ایران تجارت کے امکانات بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی سے جڑے ہوئے ہیں۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات میں پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی راہ پہلے ہی سفارتی مذاکرات کے ذریعے ہموار ہو چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری بات چیت مثبت نتائج دے گی اور خطے میں اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔

ترجمان نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات میں عارضی وقفہ آیا تھا، تاہم یہ مذاکرات آئندہ منگل کو دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں کا مذاکراتی عمل جاری رکھنا خود ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں معمول کی سرگرمیوں کی مکمل بحالی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

حال ہی میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے دوران بھی پاکستان ایران تجارت اور اقتصادی تعاون کے موضوعات زیر بحث آئے۔ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف معاشی منصوبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔

افغانستان کے حوالے سے پاکستان نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد سفارتی روابط جاری رکھے گا لیکن افغانستان کو اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرنا ہوں گی۔

ترجمان نے پاکستان کے امن اور سفارت کاری میں کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں استحکام، مذاکرات اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ پاکستان ایران تجارت مستقبل میں مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے اگر پابندیوں سے متعلق رکاوٹیں کم ہو جائیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین