یورپ میں گرمی کی لہر

یورپ میں گرمی کی لہر، ریکارڈ درجہ حرارت اور ہلاکتیں

یورپ میں گرمی کی لہر بدستور برقرار ہے اور کئی ممالک شدید درجہ حرارت، ہلاکتوں اور روزمرہ سرگرمیوں میں رکاوٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ غیر معمولی گرمی آنے والے دنوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یورپ میں گرمی کی لہر ایک موسمیاتی نظام "اومیگا بلاک” کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ اس نظام کے تحت گرم ہوا ایک مخصوص علاقے میں پھنس جاتی ہے جس کے نتیجے میں درجہ حرارت مسلسل بلند رہتا ہے اور ٹھنڈی ہوائیں متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پاتیں۔

برطانیہ نے اپنی تاریخ کا گرم ترین جون کا دن ریکارڈ کیا، جہاں جنوبی انگلینڈ میں درجہ حرارت 35.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ یہ درجہ حرارت گزشتہ کئی دہائیوں پرانے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ گیا اور غیر معمولی موسمی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

فرانس میں بھی شدید گرمی نے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ پیرس میں درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ ہے۔ حکام نے متعدد علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کیا جبکہ گرمی سے متعلق مختلف واقعات میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔

اسپین اور اٹلی میں بھی شدید گرمی کے باعث صحت سے متعلق انتباہات جاری کیے گئے۔ اٹلی کے کئی بڑے شہروں کو بلند ترین ہیٹ الرٹ پر رکھا گیا جبکہ اسپین میں بزرگ افراد کی گرمی سے متعلق اموات رپورٹ ہوئیں۔

یورپ میں گرمی کی لہر نے توانائی، ٹرانسپورٹ، سیاحت اور عوامی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ فرانس میں بعض جوہری بجلی گھروں کی پیداوار کم کر دی گئی جبکہ عجائب گھر، تاریخی مقامات، اسکول اور کھیلوں کے مقابلے بھی متاثر ہوئے۔

حکام نے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں، جن میں ایئرکنڈیشنڈ مقامات کھولنا، کام کے اوقات تبدیل کرنا اور آگاہی مہمات چلانا شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں گرمی کی لہر موسمیاتی شدت کے بڑھتے ہوئے خطرات کی واضح مثال ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات مزید عام ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین