ٹرمپ نیٹو کشیدگی ایک بار پھر اس وقت نمایاں ہوئی جب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد ایران تنازع اور اتحادی تعاون سے متعلق اختلافات کو کم کرنا اور دوطرفہ اعتماد کو مضبوط بنانا تھا۔
مارک روٹے جولائی میں انقرہ میں ہونے والے اہم نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل واشنگٹن پہنچے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے معاملے پر امریکہ اور بعض یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں۔
اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے دوران روٹے نے نیٹو ممالک کے دفاعی اخراجات میں اضافے کے اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یورپی اتحادیوں نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا ہے اور اجتماعی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایران جنگ کے دوران تعاون کے حوالے سے روٹے نے تسلیم کیا کہ بعض ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم انہوں نے انہیں محدود نوعیت کے واقعات قرار دیا۔ ان کے مطابق یورپی اتحادیوں نے امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے مختلف سہولیات اور لاجسٹک تعاون فراہم کیا۔
اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اتحادیوں نے توقعات کے مطابق حمایت نہیں کی اور امریکہ نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کسی اضافی مدد کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
ٹرمپ نیٹو کشیدگی حالیہ مہینوں میں اس وقت مزید بڑھی جب متعدد نیٹو ممالک نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کی حمایت سے گریز کیا۔ بعض اتحادیوں کا مؤقف تھا کہ اہم فیصلوں سے قبل ان سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی تھی۔
یہ ملاقات نیٹو کو درپیش چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے، جہاں اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ نیٹو سربراہی اجلاس امریکہ اور یورپی اتحادیوں کے تعلقات کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گا۔