پنجاب بجٹ 2026-27

پنجاب بجٹ 2026-27: وزیر خزانہ کا اپوزیشن پر سخت تنقید

پنجاب بجٹ 2026-27 پر ہونے والی بحث اختتام پذیر ہوگئی، جہاں وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے حکومتی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے کئی روز تک بجٹ پر بحث کی لیکن مجوزہ منصوبوں کے لیے مختص فنڈز سے مکمل طور پر ناواقف رہی۔

بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ تنقید حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے بجٹ دستاویزات کا مکمل مطالعہ کیے بغیر اعتراضات اٹھائے، جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے موجودہ مالی سال کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ کا 93 فیصد استعمال کیا جبکہ محصولات کے ہدف کا 99 فیصد حاصل کیا۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار مؤثر مالی نظم و نسق اور بہتر حکمرانی کی عکاسی کرتے ہیں۔

پنجاب بجٹ 2026-27 کے تحت جنوبی پنجاب کے لیے 387 ترقیاتی منصوبوں پر 556 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کچے کے علاقوں کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے 38 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

فلاحی اقدامات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے 29 ارب روپے، کسان کارڈ کے لیے 12.5 ارب روپے اور دھی رانی پروگرام کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام بند نہیں کیا گیا بلکہ اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے لگائے گئے کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف بین الاقوامی رپورٹس پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

پنجاب بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران سیاسی معاملات بھی زیر گفتگو آئے۔ وزیر خزانہ نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہے۔ اجلاس کے اختتام پر حکومت نے ترقیاتی منصوبوں، فلاحی پروگراموں اور مالیاتی نظم و ضبط کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین