عالمی تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد بین الاقوامی توانائی مارکیٹ میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ سفارتی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
ٹریڈنگ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 73 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔ یہ کمی عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔
ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی دباؤ کا شکار رہا اور اس کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں نے خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات کو مثبت انداز میں لیا۔
متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل تقریباً 66 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوتا دیکھا گیا۔ مختلف اقسام کے خام تیل میں یکساں کمی عالمی رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے نے مارکیٹ کے خدشات کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس پیش رفت سے توانائی کی فراہمی کے حوالے سے اعتماد بڑھا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی درآمدی ممالک کے لیے مثبت ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے ایندھن اور توانائی کے اخراجات میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔