روبیو ایران معاہدہ

روبیو کی ایران معاہدے کے لیے خلیجی حمایت حاصل کرنے کی کوشش

روبیو ایران معاہدہ سفارت کاری ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے کیونکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بحرین پہنچ گئے ہیں جہاں وہ خلیجی اتحادیوں کو ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دورہ ان کے مشرق وسطیٰ کے تین روزہ دورے کا آخری مرحلہ ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فریم ورک معاہدے کے بعد یہ پہلا بڑا سفارتی رابطہ ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے، لیکن کئی خلیجی ممالک اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔

منامہ میں روبیو بحرینی حکام اور خلیج تعاون کونسل کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ خلیج تعاون کونسل میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین شامل ہیں، جو خطے میں امریکی سلامتی حکمت عملی کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور کویت میں ملاقاتوں کے دوران روبیو نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدہ خلیجی اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنے دیرینہ شراکت داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔

تاہم مذاکرات کے کئی پہلوؤں پر اب بھی سوالات موجود ہیں۔ امریکی اور ایرانی حکام نے جوہری معائنوں، مالی معاملات، آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے مختلف مؤقف اختیار کیے ہیں، جس سے معاہدے کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

اطلاعات کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کی اقتصادی بحالی اور تعمیر نو سے متعلق بڑے منصوبے شامل ہیں۔ بعض خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس سے تہران کا علاقائی اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے اور توانائی کی اہم گزرگاہوں پر اس کی پوزیشن مضبوط ہو سکتی ہے۔

روبیو ایران معاہدہ مذاکرات کا بنیادی مقصد خلیجی اتحادیوں کے تحفظات دور کرنا اور خطے میں استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کا ردعمل اس معاہدے کی کامیابی اور مشرق وسطیٰ میں مستقبل کی امریکی پالیسی پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین