ٹرمپ ایران جنگ بیان

ایران تنازع پر ٹرمپ کی نیٹو اور یورپ پر سخت تنقید

ٹرمپ ایران جنگ بیان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف تنازع کے دوران نیٹو اور متعدد یورپی ممالک کی جانب سے مکمل حمایت نہ ملنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بات نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر نیٹو نے انہیں مایوس کیا جبکہ کئی اہم یورپی اتحادی بھی امریکہ کے ساتھ کھل کر کھڑے نہیں ہوئے۔ انہوں نے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے رویے سے انہیں مایوسی ہوئی۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے۔ ان کے مطابق تہران مذاکرات کے دوران اہم رعایتیں دینے پر آمادہ ہے جس سے امریکہ کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس، انشورنس فیس یا اضافی چارجز عائد نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس کے برعکس اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ ایران کے منجمد اثاثے بلا شرط جاری نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق ان اثاثوں کا استعمال خوراک سمیت بعض مخصوص اشیا کی خریداری کے لیے کیا جا سکتا ہے، جس سے امریکی زرعی شعبے کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ تہران سے مشاورت کے بغیر کسی نئی بحری گزرگاہ کا اعلان ناقابل قبول ہوگا اور اس سے خطے میں خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

ٹرمپ ایران جنگ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق خطے کی سلامتی، عالمی توانائی منڈیوں اور بحری تجارت کا مستقبل بڑی حد تک انہی مذاکرات کے نتائج سے وابستہ ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین