دنیا بھر میں نوجوانوں میں کینسر کے کیسز میں مسلسل اضافہ طبی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں مختلف اقسام کے کینسر، خصوصاً آنتوں کے کینسر، کے مریضوں کی تعداد 50 سال سے کم عمر افراد میں نمایاں طور پر بڑھی ہے۔
ایک نئی تحقیق میں اس رجحان کی ایک اہم وجہ حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافہ قرار دی گئی ہے۔ محققین کے مطابق 1980 اور 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد کی حیاتیاتی عمر پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے مختلف بیماریوں سمیت کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق عمر کی دو اقسام ہوتی ہیں، ایک کرانیکل یا حقیقی عمر جو تاریخ پیدائش سے معلوم ہوتی ہے، جبکہ دوسری حیاتیاتی عمر ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی حالت کو ظاہر کرتی ہے۔ جینیاتی عوامل، طرزِ زندگی، خوراک اور ماحول حیاتیاتی عمر پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق میں 1965 سے 1969 اور 1990 سے 1999 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کا موازنہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد کی حیاتیاتی عمر پہلے کی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
تحقیق کے مطابق حیاتیاتی عمر اور حقیقی عمر کے درمیان فرق جتنا زیادہ ہوگا، پھیپھڑوں، نظامِ ہاضمہ اور آنتوں کے کینسر سمیت مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ بھی اتنا ہی زیادہ بڑھ جائے گا۔ ماہرین نے بتایا کہ 1990 سے 2019 کے دوران 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کے کیسز میں تقریباً 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ موٹاپا، ذیابیطس، کم عمری میں بلوغت کا آغاز اور دیگر صحت کے مسائل حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہی عوامل بعد ازاں کینسر کے خطرے میں اضافے سے بھی منسلک پائے گئے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جسم کے مختلف اعضا کی عمر بڑھنے کی رفتار ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اگر مدافعتی نظام یا چربی کے ٹشوز کی عمر جسمانی عمر سے زیادہ ہو جائے تو بالخصوص آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ محققین کے مطابق مزید تحقیقات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ ماحول اور طرزِ زندگی کے دیگر عوامل نوجوانوں میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز میں کس حد تک کردار ادا کرتے ہیں۔