وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایف بی آر کی مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے آئندہ مالی سال میں 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، بہتر نگرانی اور مؤثر نفاذ سے محصولات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس ریلیف فراہم کیا ہے۔ اس کے ساتھ سپر ٹیکس میں معقولیت لائی گئی ہے جبکہ ریٹیلرز کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم بھی متعارف کرائی جا رہی ہے۔
ایف بی آر کی مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمت عملی کے تحت ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے ڈیجیٹل الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم نافذ کیا جائے گا۔ اس نظام کا مقصد تنازعات کے جلد اور شفاف تصفیے کے ساتھ ٹیکس انتظامیہ کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اگلے مالی سال کے دوران جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی ماہانہ جانچ پڑتال جاری رہے گی۔ ان کے مطابق باقاعدہ آڈٹ اور بہتر تعمیل سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور محصولات کے ضیاع میں کمی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو، بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کی کارکردگی اور صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی جیسے معاشی اشاریے مقررہ ٹیکس ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔
راشد محمود لنگڑیال کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے پروگرام کے تحت نفاذ، تعمیل، پالیسی اصلاحات اور دیگر اقدامات کے ذریعے آئندہ مالی سال میں اضافی ایک ہزار 20 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
ایف بی آر کی مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمت عملی حکومت کی ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی، مؤثر نگرانی اور بہتر ٹیکس تعمیل کے ذریعے 15 ہزار 264 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنا ممکن بنایا جائے گا۔