آبنائے ہرمز بحری آمدورفت

آبنائے ہرمز بحری آمدورفت جہاز پر حملے کے بعد سست، عالمی خدشات برقرار

آبنائے ہرمز بحری آمدورفت میں اس وقت سست روی دیکھی جا رہی ہے جب عمان کے قریب ایک تائیوانی کمپنی کے زیر انتظام جہاز پر حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس واقعے نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود عالمی بحری سلامتی سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔

واقعے کے بعد اقوام متحدہ کے شپنگ ادارے نے خلیج میں پھنسے ہوئے جہازوں اور ہزاروں ملاحوں کے انخلا کے لیے جاری رضاکارانہ پروگرام کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ سمندری راستوں کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

اگرچہ حملے کے بعد کچھ بحری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، تاہم کئی آئل ٹینکر خلیج میں خام تیل لوڈ کرنے کے لیے داخل ہوئے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق متعدد بڑے ٹینکرز نے ایران اور دیگر خلیجی بندرگاہوں سے تیل کی ترسیل جاری رکھی، جبکہ ایک ٹینکر تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے روانہ ہوا۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی خریدار ایران جنگ کے باعث کئی ماہ تک جاری رہنے والی سپلائی رکاوٹوں کے بعد تیل کے ذخائر بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد توانائی کی فراہمی معمول پر آنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی تین فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی آئی۔ اسی دوران سعودی عرب نے بھی خلیجی علاقے سے تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی، جس سے عالمی منڈی میں فراہمی بہتر ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بحری آمدورفت ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ ان کے مطابق محفوظ بحری راستوں کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان واضح اور مؤثر رابطہ انتہائی ضروری ہے تاکہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز بحری آمدورفت اب بھی سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔ عالمی توانائی کی تجارت اور خام تیل کی سپلائی کے لیے اس اہم بحری گزرگاہ کی صورتحال پر عالمی منڈیاں مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین