پاکستان سرکاری قرضے مالی سال 2026

مالی سال 2026 میں پاکستان کے سرکاری قرضوں کی شرح نمو 5 فیصد تک محدود

پاکستان سرکاری قرضے مالی سال 2026 کے دوران نمایاں طور پر سست روی کا شکار رہے، جہاں مرکزی حکومت کے قرضوں میں اضافہ صرف 5 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اس پیش رفت کو گزشتہ 15 برسوں میں قرضوں کی شرح نمو کی کم ترین سطح قرار دیتے ہوئے اسے بہتر مالی نظم و ضبط کا نتیجہ بتایا۔

خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کسی بھی ملک کے قرضوں کا جائزہ صرف مجموعی رقم دیکھ کر نہیں لیا جاتا۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر قرضوں کی پائیداری جانچنے کے لیے قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب کو بنیادی معیار سمجھا جاتا ہے، نہ کہ صرف مجموعی قرض کی مالیت کو۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مرکزی حکومت کا قرض اس وقت 81.9 کھرب روپے ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے 97 سے 100 کھرب روپے کے اعدادوشمار میں نجی شعبے سمیت دیگر واجبات بھی شامل ہیں، اس لیے انہیں صرف حکومتی قرض قرار دینا درست نہیں۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کا قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب مالی سال 2019-20 میں تقریباً 76 فیصد تھا، جو مالی سال 2022-23 میں تقریباً 75 فیصد رہا، جبکہ مالی سال 2026 میں کم ہو کر تقریباً 68 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب بھی تقریباً 28 فیصد سے کم ہو کر 21 فیصد رہ گیا ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ملکی مالی استحکام بہتر ہوا ہے۔

خرم شہزاد کے مطابق اندرونی قرضوں کی اوسط مدت 2.8 سال سے بڑھ کر 3.8 سال ہو گئی ہے، جس سے ری فنانسنگ کے خطرات کم ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے 4.7 کھرب روپے کا قرض بھی ریٹائر کیا، جسے ملکی تاریخ میں ایک اہم مالی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان سرکاری قرضے مالی سال 2026 کے حوالے سے حکومت کا مؤقف ہے کہ اصل اہمیت قرض کی مجموعی رقم نہیں بلکہ اس کی پائیداری، لاگت اور خطرات میں کمی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی اشاریے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کا قرض پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور قابلِ انتظام ہوتا جا رہا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین