ایران کا امریکی اہداف سے منسلک مقامات پر حملوں کا دعویٰ

ایران کے امریکی اہداف پر حملے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نئی کڑی بن گئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ملک نے امریکی افواج سے منسلک اہداف کو حالیہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں نشانہ بنایا۔ ایران کے مطابق امریکی کارروائی اس کی جنوبی ساحلی پٹی پر کی گئی تھی، جسے تہران نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ایران نے اپنے بیان میں حملوں کے مقامات یا اہداف کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ حکام نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ کارروائی کہاں کی گئی یا اس سے کیا نقصان پہنچا، جس کے باعث صورتحال کے کئی پہلو ابھی غیر واضح ہیں۔

یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں ایران پر فضائی کارروائی کی۔ اس واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق فضائی حملوں میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کے ساتھ ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایک گولہ آبنائے ہرمز کے ساحلی شہر سیریک کی ایک بندرگاہ کے قریب گرا، تاہم نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ایران کے امریکی اہداف پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی سے آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسی دوران ایک الگ سفارتی پیش رفت میں اسرائیل اور لبنان نے ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے ساتھ جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ دونوں ممالک نے اسے امن کی جانب ابتدائی قدم قرار دیا۔

اگرچہ معاہدے میں حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی افواج کے لبنان سے انخلا کی بات کی گئی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد اب بھی غیر یقینی ہے۔ حزب اللہ پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ اس معاہدے میں تعاون نہیں کرے گی، جس سے خطے کے مستقبل کے بارے میں سوالات برقرار ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین