محمد صلاح کی انجری نے مصر کی قومی ٹیم کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ کپتان محمد صلاح نے ایران کے خلاف فیفا ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے میچ کے دوران خود تبدیلی کی درخواست کی۔ مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے تصدیق کی ہے کہ ناک آؤٹ مرحلے سے قبل ان کا مکمل طبی معائنہ کیا جائے گا۔
محمد صلاح دوسرے ہاف کے صرف 12 منٹ بعد میدان سے باہر آئے اور ان کے چہرے پر مایوسی واضح نظر آ رہی تھی۔ میچ کے بعد حسام حسن نے بتایا کہ صلاح نے خود تبدیلی کا کہا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں کچھ تکلیف محسوس ہوئی، تاہم ابھی انجری کی نوعیت واضح نہیں ہے۔
کوچ کے مطابق ٹیم کا طبی عملہ محمد صلاح کا تفصیلی معائنہ کرے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف راؤنڈ آف 32 کے اہم میچ کے لیے دستیاب ہوں گے یا نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسئلہ زیادہ سنگین نہیں ہوگا۔
مصر کو ایک اور انجری کا بھی سامنا ہے، کیونکہ لیفٹ بیک احمد فتوح بھی میچ کے دوران زخمی ہوئے اور ان کا بھی طبی جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری جانب مڈفیلڈر حمدی فتحی، جو ایران کے خلاف میچ نہیں کھیل سکے، کے بارے میں امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف واپسی کر سکتے ہیں۔
محمد صلاح کی انجری کے باوجود حسام حسن نے اپنی ٹیم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ مصر نے گروپ جی میں پانچ پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کر کے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا، جبکہ بیلجیم صرف بہتر گول فرق کی بنیاد پر سرفہرست رہا۔
حسام حسن نے کہا کہ ان کے پاس باصلاحیت اور پُرعزم کھلاڑی موجود ہیں، اس لیے کسی ایک کھلاڑی کی عدم موجودگی سے پوری ٹیم متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی پر انہیں مکمل اعتماد ہے اور یہی ٹیم کی اصل طاقت ہے۔
اب مصر کی پوری توجہ آسٹریلیا کے خلاف راؤنڈ آف 32 کے مقابلے کی تیاری پر ہوگی۔ کوچ نے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی کو مصر، عرب دنیا اور افریقہ کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم اگلے مرحلے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی پوری کوشش کرے گی۔