ایران مصر ورلڈ کپ ڈرا نے ایرانی شائقین کو جذباتی اتار چڑھاؤ سے دوچار کر دیا، کیونکہ ٹیم ملی نے مصر کے خلاف 1-1 سے مقابلہ برابر کر کے براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کا موقع گنوا دیا۔ تاہم ایران کی امیدیں اب بھی زندہ ہیں اور دیگر گروپس کے نتائج اس کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔
ہفتے کی صبح تہران میں ہزاروں شائقین مختلف مقامات پر جمع ہوئے اور قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کی۔ میچ کے دوران ہر کامیاب دفاع اور حملے پر بھرپور جوش و خروش دیکھنے میں آیا، جبکہ ضائع ہونے والے مواقع پر مایوسی بھی واضح رہی۔
ایران نے اس ورلڈ کپ میں مشکل حالات میں شرکت کی۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع، سفری پابندیوں اور ویزا مسائل نے ٹیم کی تیاریوں کو متاثر کیا، لیکن اس کے باوجود کھلاڑیوں نے میدان میں بھرپور مقابلہ کیا۔
مقابلے میں مصر نے ابتدائی برتری حاصل کی، تاہم ایران کو پنالٹی ملی جس سے میچ برابر کرنے کا موقع پیدا ہوا۔ مہدی طارمی پنالٹی پر کامیاب نہ ہو سکے، لیکن بعد ازاں مدافع رامین رضائیان نے گول کر کے اسکور برابر کر دیا، جس پر ایرانی شائقین خوشی سے جھوم اٹھے۔
ایران مصر ورلڈ کپ ڈرا کا سب سے ڈرامائی لمحہ اختتامی اضافی وقت میں آیا جب شجاع خلیل زادہ نے گیند جال میں پہنچائی، مگر ریفری نے گول مسترد کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد اسٹیڈیم اور تہران میں موجود شائقین شدید مایوسی کا شکار ہو گئے۔
اگرچہ ایران براہِ راست اگلے مرحلے میں جگہ بنانے میں ناکام رہا، لیکن بیشتر شائقین نے ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں نے ہمت نہیں ہاری اور آخر تک بھرپور مقابلہ کیا، جس کے باعث وہ کامیابی کے مستحق تھے۔
اب ایران کی نظریں دیگر گروپس کے نتائج پر مرکوز ہیں۔ اگر ٹیم بہترین تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں شامل ہو گئی تو وہ پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی، جو ایرانی فٹبال کی تاریخ کا اہم سنگ میل ہوگا۔