پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کے حوالے سے حکومت اس ہفتے بین الاقوامی تیل مارکیٹ کے اشاریوں کا جائزہ لے گی۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ عالمی قیمتوں کا تفصیلی تجزیہ کرنے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق آئندہ فیصلہ کیا جائے گا۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ عوام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صارفین کے مفاد کا بھی مکمل خیال رکھ رہا ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق حکومت نہ کسی مخصوص شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی شعبے پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے متوازن معاشی حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام اور معیشت دونوں کو فائدہ پہنچ سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت اب تک مختلف مراحل میں ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 200 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 155 روپے فی لیٹر کمی کر چکی ہے، جس کا مقصد عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کرنا تھا۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ اس ہفتے عالمی تیل کی قیمتوں کے اشاریوں کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد عالمی خام تیل کی قیمت، درآمدی لاگت اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمتوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔
پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں مہنگائی، ٹرانسپورٹ، صنعتی سرگرمیوں اور روزمرہ اخراجات پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسی لیے عوام اور کاروباری حلقے ہر قیمت کے اعلان کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے آئندہ چند روز میں عالمی منڈی کے تازہ رجحانات کی روشنی میں حتمی اعلان متوقع ہے۔ اگر قیمتوں میں ردوبدل کیا جاتا ہے تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں تبدیلی کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر بھی مرتب ہوں گے۔