ایران کا امریکہ پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوج نے ایرانی ساحلی تنصیبات پر تازہ حملے کیے۔ تہران نے ان کارروائیوں کو دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے امن معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا کہ امریکی حملوں نے ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور یہ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایران کے مطابق اس اقدام سے خطے میں امن قائم رکھنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی جمعہ کو اس وقت کی گئی جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک مال بردار جہاز پر حملہ کیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں میزائل اور ڈرون ذخائر کے مراکز کے ساتھ ساتھ ساحلی ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے کی گئی۔ امریکی حکام نے اسے دفاعی نوعیت کا ردعمل قرار دیا ہے۔
ایران کا امریکہ پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کی گئی تھیں۔ تاہم ایران نے ابھی تک اس واقعے کے بعد کسی ممکنہ جوابی اقدام کا اعلان نہیں کیا۔
تازہ پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو نہ صرف علاقائی استحکام متاثر ہوگا بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ دونوں فریقوں نے اب تک امن معاہدے سے دستبردار ہونے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔