امریکہ ایران تکنیکی مذاکرات بدھ کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوں گے، جہاں دونوں ممالک کے نمائندے بالواسطہ طور پر ملاقات کریں گے۔ ایک سفارتکار کے مطابق مذاکرات میں مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور لیک لوسرن سمٹ میں ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ مذاکرات قطر اور پاکستان کی ثالثی میں منعقد ہوں گے، جبکہ امریکی اور ایرانی نمائندے براہ راست آمنے سامنے نہیں بیٹھیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس مرحلے پر توجہ تکنیکی اور عملی نکات پر ہوگی تاکہ آئندہ سفارتی پیش رفت کے لیے واضح بنیاد تیار کی جا سکے۔
مذاکرات کے دوران مفاہمتی یادداشت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریق ایسے طریقہ کار پر غور کریں گے جو مستقبل میں تعاون کے امکانات کو بہتر بنا سکے اور جاری رابطوں کو مزید مؤثر بنائے۔
سفارتکار نے یہ بھی بتایا کہ امریکی نمائندے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بدھ کے تکنیکی مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نشست میں زیادہ تر تکنیکی ماہرین اور ثالثی کرنے والے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ عملی امور پر توجہ دی جا سکے۔
اس سے قبل منگل کو جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سفارتی رابطوں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق غیر جانبدار ثالث ایسے مذاکرات کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب براہ راست رابطے محدود ہوں۔
اگرچہ فوری کسی بڑے معاہدے کی توقع نہیں کی جا رہی، تاہم امریکہ ایران تکنیکی مذاکرات جاری سفارتی عمل کا اہم حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے نتائج پر عالمی مبصرین کی نظر ہوگی کیونکہ یہ آئندہ سیاسی رابطوں اور ممکنہ پیش رفت کے لیے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔