روس چین فوجی تربیت سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ خفیہ روسی دستاویزات اور دو یورپی حکام کے مطابق 2025 میں روسی فوج کی چین میں تربیت کی منظوری اعلیٰ سطح پر دی گئی تھی۔ دوسری جانب چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے روسی فوجی وفد کو عوامی جمہوریہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی تنصیبات میں تربیت حاصل کرنے کی منظوری دی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس عمل میں روس اور چین کے کئی اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق ایک تربیتی پروگرام تین ہفتوں پر محیط تھا، جس میں تابکاری، حیاتیاتی اور کیمیائی تحفظ سے متعلق تربیت دی گئی۔ رائٹرز نے دعویٰ کیا کہ دستاویزات میں روسی اہلکاروں کو چینی انسٹرکٹرز سے کیمیائی اور تابکاری سے متعلق تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
روس اور چین کی وزارتِ دفاع نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم چین کی وزارت خارجہ نے رپورٹ میں شامل الزامات کو "مکمل طور پر بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین تنازع پر بیجنگ کا مؤقف غیر جانبدار اور مستقل ہے۔
رائٹرز کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین نے اپنے ذرائع سے اس تربیت کی تصدیق کی ہے اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس سے قبل بھی یورپی یونین بعض چینی کمپنیوں پر روس کی جنگی کوششوں میں معاونت کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کر چکی ہے، جنہیں چین مسترد کرتا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض داخلی روسی فوجی جائزوں میں چینی فوج کے سازوسامان، تربیتی نظام اور انسٹرکٹرز کی نظریاتی مہارت کو سراہا گیا، تاہم حالیہ جنگی تجربے کی کمی کی نشاندہی بھی کی گئی۔ دوسری جانب روسی رکن پارلیمنٹ آندرے کارتاپولوف نے اس رپورٹ کو "مکمل بکواس” قرار دے کر مسترد کر دیا۔
روس چین فوجی تربیت سے متعلق یہ دعوے ماسکو اور بیجنگ کے بڑھتے دفاعی تعاون پر عالمی توجہ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ تاہم رائٹرز کی رپورٹ میں شامل الزامات کی چین اور بعض روسی حکام نے تردید کی ہے، جس کے باعث اس معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔