او آئی سی ویمن کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز اعلیٰ سطحی کمیٹی کے چھٹے اجلاس کی صدارت کی۔ پاکستان 12 اور 13 جولائی کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی کرے گا۔
اجلاس میں کانفرنس کے مسودہ پروگرام، ایجنڈا، پروٹوکول، سکیورٹی انتظامات، لاجسٹکس، میڈیا حکمت عملی، بین الوزارتی رابطوں اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ اداروں کی تیاریوں اور ذمہ داریوں پر بھی غور کیا گیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں او آئی سی ویمن کانفرنس کے کامیاب اور بلا رکاوٹ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے، جہاں خواتین کو بااختیار بنانے، شمولیت اور پائیدار ترقی سے متعلق تعاون کو فروغ دینے پر بات ہوگی۔
اسحاق ڈار نے وزارت انسانی حقوق کی جانب سے اب تک کی گئی پیش رفت کو سراہا اور تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے باقی ماندہ انتظامات بروقت مکمل کریں تاکہ کانفرنس کے انعقاد میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
کانفرنس مختلف رکن ممالک کو خواتین کی تعلیم، معاشی شمولیت، سماجی ترقی اور پالیسی سازی کے شعبوں میں اپنے تجربات اور بہترین اقدامات کے تبادلے کا موقع فراہم کرے گی۔ حکام کے مطابق اس فورم سے مشترکہ تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سیکریٹری انسانی حقوق عبد الخالق شیخ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
او آئی سی ویمن کانفرنس پاکستان کے لیے ایک اہم بین الاقوامی سفارتی موقع تصور کی جا رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی، لاجسٹکس اور انتظامی معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ تمام وفود کے لیے کامیاب اور مؤثر کانفرنس کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔