لاہور چھت گرنے کا واقعہ

لاہور چھت گرنے کا واقعہ: 14 بچوں کی ہلاکت پر مالکان اور تعمیراتی مزدور کے خلاف مقدمہ درج

لاہور چھت گرنے کا واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کاہنہ میں واقع عمارت کے تین مالکان اور ایک تعمیراتی مزدور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ افسوسناک حادثے میں 14 بچے جاں بحق جبکہ آٹھ دیگر زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

کاہنہ تھانے میں درج ایف آئی آر لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے انفورسمنٹ انسپکٹر کاشف اسلم کی مدعیت میں درج کی گئی۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 322 اور 337-H کے تحت درج کیا گیا ہے، جو غفلت کے باعث موت اور لاپرواہی سے زخمی کرنے سے متعلق ہیں۔

پولیس نے مقدمے میں عمارت کے مالکان عثمان، فیضان اور ریحان کے علاوہ تعمیراتی مزدور عمیر کو نامزد کیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ریحان کی اہلیہ آملہ گھر کے ایک کمرے میں ٹیوشن سینٹر چلا رہی تھیں۔ وہ حادثے میں زخمی ہوئیں تاہم انہیں مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا۔

تحقیقات کے مطابق بچوں کی کلاسیں جاری تھیں جبکہ اسی دوران عمارت میں مرمت کا کام بھی ہو رہا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمزور اور خستہ حال چھت پر تعمیراتی سامان رکھ دیا گیا، جس کے اضافی وزن کے باعث چھت گر گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں اور ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ تعمیراتی کام میں غفلت حادثے کی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ حکام کے مطابق نامزد افراد کی قانونی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

لاہور چھت گرنے کا واقعہ ایک روز قبل فیروزپور روڈ پر بستی عید گاہ، قربان اسکول کے قریب پیش آیا، جہاں رہائشی عمارت میں قائم ٹیوشن سینٹر میں درجنوں بچے پڑھ رہے تھے کہ اچانک کمرے کی چھت منہدم ہوگئی۔ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے دبے بچوں کو نکال کر اسپتال منتقل کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے، مکمل انکوائری کرانے اور ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت کی ہے۔ لاہور چھت گرنے کا واقعہ نے ایک بار پھر عمارتوں کی حفاظت، غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹرز اور تعمیراتی ضوابط پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین