مسجد اقصیٰ کا احاطہ

فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی آبادکار مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے

مسجد اقصیٰ کا احاطہ بدھ کے روز ایک بار پھر کشیدگی کا مرکز بن گیا جب فلسطینی حکام نے دعویٰ کیا کہ متعدد اسرائیلی آبادکار اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مقدس مقام میں داخل ہوئے۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نے یہ اطلاع یروشلم گورنریٹ کے حوالے سے شائع کی۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ کا احاطہ میں داخل ہو کر صحنوں کا دورہ کیا اور تلمودی مذہبی رسومات ادا کیں، جبکہ اسرائیلی پولیس نے انہیں سکیورٹی فراہم کی۔ فلسطینی حکام نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے موجودہ انتظامات میں تبدیلی کی کوشش قرار دیا۔

مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے نزدیک اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جبکہ یہودی اسی مقام کو ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں اور اسے اپنے قدیم مندروں کی جگہ قرار دیتے ہیں۔ اسی مذہبی اور تاریخی اہمیت کے باعث یہ مقام کئی دہائیوں سے تنازع اور کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔

فلسطینی حکام نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل مقبوضہ مشرقی یروشلم، بالخصوص مسجد اقصیٰ کا احاطہ، پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فلسطینی مؤقف ہے کہ مشرقی یروشلم مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اسرائیلی پولیس مذہبی یہودیوں اور دائیں بازو کے کارکنوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں خدمات انجام دینے کے لیے بھرتی کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد بڑھنے والے یہودی زائرین کے پیش نظر اضافی عملہ تعینات کرنا ہے۔

یروشلم گورنریٹ نے اس مبینہ بھرتی مہم کو "خطرناک پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مسجد اقصیٰ کے انتظامی اختیارات کو اردن کے زیر انتظام یروشلم اسلامی وقف سے منتقل کرنے کی کوششوں کا تاثر ملتا ہے۔ وقف ادارہ موجودہ انتظامات کے تحت مسجد کے انتظام و انصرام کا مجاز ادارہ ہے۔

مسجد اقصیٰ کا احاطہ سے متعلق تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر اس حساس مذہبی مقام پر جاری تنازع کو نمایاں کر دیا ہے۔ اس صورتحال پر خطے اور عالمی برادری کی گہری نظر ہے کیونکہ یروشلم میں ہونے والی ہر پیش رفت وسیع سیاسی اور سفارتی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین