تیل کی قیمتیں بدھ کے روز عالمی منڈی میں بڑھ گئیں کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا۔ سرمایہ کار خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 33 سینٹ یا 0.45 فیصد اضافے کے ساتھ 73.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 34 سینٹ یا 0.49 فیصد اضافے سے 69.84 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور مارکیٹ کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ واندا انسائٹس کی بانی وندنا ہری کے مطابق اگرچہ بحری راستہ بتدریج بحال ہو رہا ہے، تاہم صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی، جس کے باعث منڈی سفارتی پیش رفت کا انتظار کر رہی ہے۔
تیل کی قیمتیں اس وقت مزید اوپر آئیں جب امریکی حکام جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف دوحہ میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے پہنچے۔ تاہم ایران اور قطر نے واضح کیا کہ ایرانی حکام سے رابطے براہ راست نہیں بلکہ ثالثوں کے ذریعے ہوں گے۔
اس سے قبل مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امید پر رواں سال خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ برینٹ خام تیل نے 2008 کے بعد اپنی سب سے بڑی سہ ماہی گراوٹ ریکارڈ کی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمتوں میں بھی 2020 کے بعد سب سے زیادہ کمی آئی۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کو اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی محصول عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ادھر امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی سفارتی صورتحال، امریکی ذخائر کے اعداد و شمار اور عالمی طلب کے رجحان سے متاثر ہوں گی۔