وفاقی حکومت نے یکم جولائی سے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ نافذ کر دیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق فی لیٹر لیوی میں ڈھائی روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی مجموعی شرح 5 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد حکومتی مالیاتی پالیسی کے تحت کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ نئی شرح کا اطلاق یکم جولائی سے شروع ہو چکا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی فی لیٹر ڈھائی روپے کی کمی کر دی ہے۔ اس اقدام سے اضافی بوجھ کو متوازن رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں صارفین کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ یعنی کلائمیٹ سپورٹ لیوی بڑھنے کے باوجود پمپ پر وصول کی جانے والی قیمتیں پہلے جیسی برقرار رہیں گی۔
ماہرین کے مطابق لیوی کے ڈھانچے میں یہ ردوبدل حکومتی ریونیو اہداف اور ماحولیاتی مالیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس سے سرکاری محصولات میں استحکام لانے کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں مالی نظم و ضبط کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شہریوں کی بڑی تعداد نے اس فیصلے پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا، تاہم بعض صارفین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں لیوی میں مزید اضافے کی صورت میں ایندھن کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔