گلوبل کومبیٹ ایئر پروگرام کے تحت برطانیہ، اٹلی اور جاپان نے نئی نسل کے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کی تیاری کے لیے 4.6 ارب پاؤنڈ (6.1 ارب ڈالر) کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد چھٹی نسل کا جدید جنگی طیارہ تیار کرنا ہے، جسے 2035 تک فوجی خدمات میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
برطانوی حکومت کے مطابق یہ معاہدہ مشترکہ دفاعی منصوبے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے تحت طیارے کے اگلے مرحلے کی تیاری، بنیادی ڈیزائن، تکنیکی تقاضوں کے تعین اور مختلف آزمائشی مراحل کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل کا یہ لڑاکا طیارہ ٹائفون اور ایف-35 طیاروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا جبکہ خودکار دفاعی نظاموں کے ساتھ بھی مکمل ہم آہنگی رکھے گا۔ گلوبل کومبیٹ ایئر پروگرام میں مصنوعی ذہانت، جدید ڈیجیٹل انجینئرنگ اور نئی دفاعی ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جائے گا۔
برطانوی حکومت نے اس منصوبے کو رائل ایئر فورس کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ طیارہ جدید جنگی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ دہائیوں کے سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ معاہدہ ایج وِنگ (Edgewing) نامی مشترکہ کمپنی کو دیا گیا ہے، جو 2025 میں برطانیہ کی بی اے ای سسٹمز، اٹلی کی لیونارڈو اور جاپان ایئرکرافٹ انڈسٹریل انہانسمنٹ کمپنی (JAIEC) نے قائم کی تھی۔ یہ ادارہ گلوبل کومبیٹ ایئر پروگرام کے تحت طیارے کے ڈیزائن اور تکنیکی ترقی کی نگرانی کرے گا۔
یہ منصوبہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشترکہ تحقیق اور صنعتی مہارت کے ذریعے مستقبل کی ضروریات کے مطابق جدید جنگی طیارہ تیار کیا جائے گا۔
گلوبل کومبیٹ ایئر پروگرام کو دنیا کے اہم ترین دفاعی فضائی منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تازہ معاہدے کے بعد برطانیہ، اٹلی اور جاپان 2035 تک چھٹی نسل کے جدید لڑاکا طیارے کی تیاری کے ہدف کی جانب مزید تیزی سے پیش رفت کریں گے۔