ایران کا آبنائے ہرمز سے متعلق انتباہ

ایران کا آبنائے ہرمز میں غیر علاقائی طاقتوں کو انتباہ

ایران نے ایران کا آبنائے ہرمز سے متعلق انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں غیر علاقائی طاقتوں کی فوجی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کی ذمہ داری صرف ساحلی ممالک پر عائد ہوتی ہے اور بیرونی فوجی سرگرمیوں سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کسی بھی غیر علاقائی طاقت کے فوجی مظاہرے کی جگہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایران خود کو اس اہم آبی راستے کی سلامتی کا ذمہ دار اور ضامن سمجھتا ہے اور اس حوالے سے ہر فوجی سرگرمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا آبنائے ہرمز سے متعلق انتباہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کے امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ساحلی ممالک باہمی تعاون سے سیکیورٹی کو یقینی بنائیں، نہ کہ بیرونی فوجی مداخلت کے ذریعے۔

کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی غیر معمولی فوجی نقل و حرکت پر حساس ردعمل دے گا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات علاقائی استحکام، عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جو عناصر یا ممالک خطے میں کشیدگی پیدا کریں گے یا فوجی مہم جوئی کا راستہ اختیار کریں گے، انہیں اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایران کی جانب سے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے کی سیکیورٹی کو عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

تازہ ایران کا آبنائے ہرمز سے متعلق انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور بحری سلامتی سے متعلق خدشات بھی موجود ہیں۔ ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم غیر علاقائی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کرتا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین