ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں امریکا کی کسی بھی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے یہ بات تہران میں چینی پیپلز کانگریس کے نائب صدر سے ملاقات کے دوران کہی، جہاں دونوں ممالک نے اپنے اسٹریٹیجک تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اور چین کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے اور دونوں ممالک مستقبل میں بھی مختلف شعبوں میں اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دیں گے۔ ان کے مطابق یہ تعلقات خطے میں استحکام اور عالمی کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں چینی جہازوں کی آمدورفت سے متعلق مسائل حل کر لیے گئے ہیں، تاہم ایران اس اہم آبی گزرگاہ میں امریکا کی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حساس سمندری راستے سے متعلق ایران کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔
باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل مستقبل میں امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ مفاہمت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت خطے میں کسی نئی جنگ کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے منظم حکمت عملی، دانشمندانہ سیاسی فیصلے اور سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق کشیدگی میں کمی ہی علاقائی استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے۔
اس موقع پر چینی پیپلز کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ چین اور ایران کی دوستی تاریخی بنیادوں پر قائم ہے اور دونوں ممالک سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
ایران کا آبنائے ہرمز سے متعلق تازہ مؤقف اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی اسٹریٹیجک اہمیت کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔ خطے میں جاری پیش رفت اور ایران چین تعاون پر عالمی برادری کی گہری نظر برقرار ہے۔