امریکا نے پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد حملوں کے خلاف اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے نویں جائزے پر ووٹنگ کی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پاکستان کئی برسوں سے دہشت گردی کا شدید شکار رہا ہے اور اس کے عوام نے بھاری جانی نقصان اٹھایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکا دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان اور افغانستان کی سرحدی صورتحال سیکیورٹی کے حوالے سے حساس ہے۔
یہ مؤقف پاکستان کی جانب سے حالیہ انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل بھی امریکی حکام پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کرتے رہے ہیں اور خطے کی صورتحال پر قریبی نظر رکھنے کی بات کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے نویں جائزے پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث ریکارڈ ووٹنگ کرائی گئی۔ قرارداد کے حق میں پاکستان سمیت 140 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ امریکا، اسرائیل اور ارجنٹینا نے مخالفت کی۔ جاپان نے بعد میں واضح کیا کہ اس کا غیر حاضر رہنا تکنیکی غلطی تھی۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
Permanent Representative of Pakistan to the UN,
At the UN General Assembly’s 96th Plenary Meeting of the 80th Session Under Agenda Item 118 on the 9th Review of the UN Global Counter Terrorism Strategy (GCTS)*
*****Thank you Mr.… pic.twitter.com/Oynf3wm2KK
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 2, 2026
امریکا نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ دستاویز غیر ضروری طور پر طویل ہو چکی ہے اور اس میں عملی انسداد دہشت گردی اقدامات پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ واشنگٹن کے مطابق اس کے کئی اہم تحفظات اور تجاویز کو بھی حتمی متن میں شامل نہیں کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دہشت گردی مسلسل بدلتی ہوئی عالمی خطرے کی شکل اختیار کر رہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مربوط بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کردار کو بھی اجاگر کیا۔
امریکا نے پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کے اعادے کے ساتھ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے۔ پاکستان نے آن لائن انتہاپسندی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔