ایران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات

ایران کے سپریم لیڈر کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد شریک

ایران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات ہفتے کے روز تہران میں بڑے پیمانے پر شروع ہوئیں جہاں لاکھوں افراد آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے تنازع کے دوران ان کے قتل کے بعد ملک بھر سے شہری دارالحکومت پہنچے۔ سوگوار سیاہ لباس میں ملبوس تھے اور مختلف مذہبی و قومی نعرے لگا رہے تھے۔

حکومت کے مطابق تہران میں ہونے والی تقریبات میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ یہ ایران کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کی قیادت کی اور ان کی یاد میں کئی روزہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔

مرکزی ہال میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے تابوت رکھے گئے جہاں ہزاروں افراد نے دعا اور فاتحہ خوانی کی۔ مختلف شہروں سے آنے والے شہریوں نے کہا کہ وہ اپنے رہنما کو آخری سلام پیش کرنے کے لیے طویل سفر طے کر کے آئے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں عوامی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

تہران میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ متعدد شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ پولیس، فوج اور امدادی اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ شدید گرمی کے پیش نظر پانی کی فراہمی اور طبی سہولیات کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا تاکہ شرکا کو کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔

سرکاری پروگرام کے مطابق تابوت کو پہلے تہران میں عوامی جلوس کے بعد قم منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد عراق کے مقدس مقامات پر مختصر مذہبی تقریبات ہوں گی جبکہ آخری تدفین مشہد میں کی جائے گی۔ ایران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات پورے ہفتے جاری رہیں گی اور ملکی توجہ کا مرکز بنی رہیں گی۔

ابتدائی تعزیتی تقریب میں مختلف ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود تھے جنہوں نے ایرانی عوام سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ دیگر بین الاقوامی شخصیات نے بھی ایران سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

ایران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ مبصرین کے مطابق یہ تقریبات نہ صرف قومی سوگ کی علامت ہیں بلکہ اتحاد اور استحکام کا پیغام بھی دیتی ہیں۔ آئندہ چند روز میں ان تقریبات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز رہنے کا امکان ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین