پاکستان کی غیر قانونی ہجرت کے خلاف حکمت عملی

طلال چوہدری: غیر قانونی ہجرت پر پاکستان کی حکمت عملی مثالی

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی غیر قانونی ہجرت کے خلاف حکمت عملی عالمی برادری کے لیے ایک مؤثر ماڈل بن چکی ہے۔ ویانا میں گلوبل الائنس ٹو کاؤنٹر مائیگرنٹ اسمگلنگ کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ہجرت صرف ایک سرحدی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ محفوظ، منظم اور قانونی ہجرت کو فروغ دینا غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق ممالک کے درمیان تعاون بڑھا کر انسانی اسمگلنگ کے بین الاقوامی نیٹ ورکس کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

اجلاس کے دوران یورپی یونین نے غیر قانونی ہجرت کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی کارکردگی کی تعریف کی۔ حکام کے مطابق سرحدی نگرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات نے پاکستان کی غیر قانونی ہجرت کے خلاف حکمت عملی کو مزید مؤثر بنایا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران پاکستانیوں کی یورپ جانے کی غیر قانونی کوششوں میں 47 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ سال 2025 کے دوران ایف آئی اے نے تقریباً 1,770 انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا جبکہ فیلڈ انٹرسیپشن کی تعداد 628 سے بڑھ کر 2,662 تک پہنچ گئی۔

حکام کے مطابق یورپی یونین نے پاکستان کے ادارہ جاتی اقدامات کو مثالی قرار دیتے ہوئے علاقائی سطح پر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ اس پیش رفت سے پاکستان کی غیر قانونی ہجرت کے خلاف حکمت عملی پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

ہر سال ہزاروں پاکستانی بہتر روزگار کے خواب میں انسانی اسمگلروں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔ بدنام زمانہ "ڈنکی روٹ” کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش اکثر مالی نقصان، قید، استحصال یا جان لیوا حادثات پر ختم ہوتی ہے، جس سے اس مسئلے کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔

حکومت نے نیشنل ایکشن پلان برائے انسداد انسانی اسمگلنگ (2026–2030) کے تحت کئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت پر مبنی بایومیٹرک نظام اور ہوائی اڈوں پر سخت نگرانی شامل ہے۔ حکام کے مطابق 2025 کے دوران تقریباً 40 ہزار مشتبہ مسافروں کو سفر سے روکنا پاکستان کی غیر قانونی ہجرت کے خلاف حکمت عملی کی کامیابی کا اہم ثبوت ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین