نیٹو میں امریکی فوجی کمی

یورپی اتحادیوں نے نیٹو میں امریکی کمی پوری کر دی

نیٹو کے ایک سینئر کمانڈر نے کہا ہے کہ یورپی اتحادیوں نے نیٹو میں امریکی فوجی کمی کے بعد پیدا ہونے والے بیشتر خلا کو اپنی اضافی دفاعی صلاحیتوں سے پورا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یورپی ممالک نے حالیہ عرصے میں دفاعی تعاون اور فوجی تیاریوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے اتحاد مزید مضبوط ہوا ہے۔

ڈپٹی سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ جان اسٹرنگر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے یورپ میں ممکنہ جنگ یا بڑے بحران کی صورت میں تعینات کی جانے والی افواج میں کمی کے اعلان کے بعد یورپی ممالک نے اپنی ذمہ داریاں بڑھا دی ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو "زیادہ مضبوط یورپ اور زیادہ مضبوط نیٹو” قرار دیا۔

امریکا کے فیصلے کے بعد نیٹو کی عسکری قیادت نے یورپی رکن ممالک سے اضافی فوجی دستوں اور وسائل کی فراہمی کی درخواست کی تھی۔ جان اسٹرنگر کے مطابق بیشتر ممالک نے اس مطالبے کا مثبت جواب دیتے ہوئے اپنی عسکری تیاریوں اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا۔

نیٹو میں امریکی فوجی کمی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جہاں یورپی ممالک امریکی صلاحیتوں کا مکمل متبادل فراہم نہیں کر سکتے، وہاں وہ جدید ٹیکنالوجی، مختلف دفاعی وسائل اور مشترکہ منصوبہ بندی کے ذریعے وہی عسکری نتائج حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جان اسٹرنگر نے مزید کہا کہ ذمہ داریوں کی تقسیم اب فوجی ضرورت کے مطابق متوازن انداز میں ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق یورپی اتحادی کئی برسوں سے اپنے دفاعی اخراجات اور فوجی تعاون میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں تاکہ نیٹو کی مجموعی صلاحیت برقرار رہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یورپی نیٹو اتحادیوں پر دفاعی اخراجات کم رکھنے پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پر دفاعی بوجھ غیر متناسب حد تک زیادہ ہے اور یورپی ممالک کو اتحاد میں اپنی ذمہ داریاں مزید بڑھانی چاہئیں۔

تازہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیکیورٹی صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ نیٹو بھی اپنی حکمت عملی میں ردوبدل کر رہا ہے۔ نیٹو میں امریکی فوجی کمی کے بعد یورپی ممالک کی بڑھتی ہوئی عسکری شمولیت اتحاد کی اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین