ایم کیو ایم پی 2022 معاہدہ

ایم کیو ایم پی کا 2022 معاہدے پر احتجاج کی دھمکی

ایم کیو ایم پی 2022 معاہدہ ایک بار پھر ملکی سیاست میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو پارٹی احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ معاہدے کے 18 نکات میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں ہوا۔

فاروق ستار نے بتایا کہ مارچ 2022 میں اتحادی حکومت کے قیام کے وقت یہ معاہدہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کے درمیان طے پایا تھا۔ ان کے مطابق معاہدے کا مقصد سندھ میں استحکام، کراچی کی ترقی اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا تھا، نہ کہ وزارتیں یا سیاسی مراعات حاصل کرنا۔

ایم کیو ایم پی 2022 معاہدہ کے اہم نکات کا ذکر کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد بنیادی شرط تھی، جس کے تحت اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جانے تھے۔ تاہم ان کے مطابق متعدد یاد دہانیوں کے باوجود اس وعدے کو پورا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی، سندھ حکومت اور معاہدے پر دستخط کرنے والی قیادت اس تاخیر کی ذمہ دار ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ حال ہی میں بلاول بھٹو زرداری نے بھی قومی اسمبلی میں اعتراف کیا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے بعض مطالبات وفاقی حکومت سے بھی متعلق ہیں۔

فاروق ستار نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے کے ضامن اور گواہ ہونے کے ناطے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایم کیو ایم پی 2022 معاہدہ پر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو پارٹی کی مرکزی کمیٹی احتجاجی تحریک کے آغاز کا اعلان کرے گی۔

ایم کیو ایم پاکستان نے فوری طور پر چار مطالبات بھی پیش کیے جن میں آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد، کراچی کے لیے بڑا ترقیاتی پیکیج، لاپتا افراد کے مسئلے پر پیش رفت اور سندھ کی گورنری دوبارہ ایم کیو ایم پاکستان کو دینے کا مطالبہ شامل ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں قومی اسمبلی میں پارٹی کے 22 ارکان اپوزیشن بنچوں پر جانے پر غور کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اب بھی عوامی حمایت کے بجائے سیاسی دباؤ کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے وفاقی مداخلت کے مطالبے کو وفاقی نظام کے خلاف قرار دیا، جبکہ ایم کیو ایم پی 2022 معاہدہ پر سیاسی بحث بدستور جاری ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین