ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی احترام اور کیے گئے وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ دباؤ یا دھمکیوں کے ماحول میں کسی حتمی معاہدے پر بات چیت ممکن نہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ لاکھوں ایرانی شہریوں نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کرکے قومی اتحاد کا بھرپور اظہار کیا۔ ان کے مطابق اس بڑے عوامی اجتماع نے ثابت کیا کہ ایرانی عوام مشکل حالات میں بھی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے قومی مؤقف پر قائم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نہ ایرانی عوام اور نہ ہی ایران کی بہادر مسلح افواج کسی قسم کی دھمکی سے متاثر ہوں گی۔ ان کے مطابق بیرونی دباؤ ایران کے فیصلوں یا قومی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کر سکتا اور ملک اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 13 بالکل واضح ہے، جس کے مطابق دھمکیوں کے تسلسل میں حتمی معاہدے پر مذاکرات کا آغاز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنے کیے گئے وعدوں اور دستخط شدہ معاہدوں کا احترام کریں۔
Millions of proud Iranians rallied in unity to honor Grand Ayatollah Khamenei and his legacy. Neither them nor our Brave Armed Forces are moved by any threats.
Para 13 of the MoU is clear: Negotiations on final Deal will not commence if threats continue Honor your signature. pic.twitter.com/uQ7OoFyp8U
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 7, 2026
عباس عراقچی کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب ایران سے متعلق سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ مختلف ممالک مستقبل میں مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم باہمی اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کامیاب سفارت کاری صرف اسی صورت ممکن ہے جب مذاکرات دباؤ سے پاک ماحول میں ہوں اور تمام فریق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عباس عراقچی کا تازہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران سفارتی عمل کے لیے تیار ہے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ مذاکرات سے پہلے دھمکیوں کا سلسلہ ختم ہو اور تمام فریق اپنے طے شدہ وعدوں پر عمل کریں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار خطے میں کشیدگی اور سفارتی ماحول پر ہوگا۔