امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ انقرہ نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے۔ دو روزہ اجلاس میں نیٹو رہنما دفاعی اخراجات، علاقائی سلامتی اور اتحاد کے مستقبل سے متعلق اہم امور پر غور کریں گے، جبکہ صدر ٹرمپ کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات بھی شیڈول ہے۔
صدر ٹرمپ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 51 منٹ پر قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے ایئر فورس ون طیارے کے ذریعے انقرہ پہنچے۔ ایٹیمسگت ایئر بیس پر صدر رجب طیب اردوان، ترک حکام اور صدارتی گارڈ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
استقبال کے بعد امریکی صدر صدارتی محل روانہ ہوئے جہاں ان کی اردوان کے ساتھ دوطرفہ ملاقات متوقع ہے۔ ملاقات میں نیٹو تعاون، علاقائی سلامتی، دفاعی شراکت داری اور دیگر اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیے جانے کا امکان ہے۔ دونوں رہنما بعد ازاں نیٹو سربراہان کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے میں بھی شریک ہوں گے۔
دو روزہ نیٹو اجلاس ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب دنیا کو مختلف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اجلاس میں دفاعی بجٹ، فوجی تیاری، اجتماعی دفاع اور اتحاد کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق اہم فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس سے قبل کئی نیٹو ممالک نے اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہدوں کا اعلان کیا تاکہ فوجی اخراجات میں اضافے کے عزم کا اظہار کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ مسلسل یورپی اتحادیوں سے دفاعی اخراجات بڑھانے پر زور دیتا رہا ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ یورپی ممالک دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہے ہیں اور اپنے خطے کی سلامتی کے لیے زیادہ ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ ان کے مطابق اتحاد اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
انقرہ میں ہونے والا یہ اجلاس گزشتہ سال دفاعی اخراجات میں اضافے کے فیصلوں کے بعد پہلا بڑا سربراہی اجلاس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دوران ہونے والی ملاقاتیں اور فیصلے نیٹو کی آئندہ حکمت عملی، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔