پاکستان ہنگامی ایل این جی ٹینڈر جاری کرتے ہوئے حکومت نے آبنائے ہرمز میں حالیہ حملوں کے بعد گیس کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے ایک اضافی ایل این جی کارگو خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں تازہ حملوں کے باعث گیس اور توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔
پاکستان نے 15 اور 16 جولائی کی ترسیل کے لیے ایک ایل این جی کارگو خریدنے کا ہنگامی ٹینڈر جاری کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی گیس سپلائی کو مستحکم رکھنا اور ممکنہ قلت سے بچنا ہے۔
ٹینڈر کے لیے بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ جمعہ مقرر کی گئی ہے۔ محدود وقت میں خریداری کا عمل مکمل کرنے کی کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے یہ ہنگامی ٹینڈر اس وقت منظور کیا جب قطر سے جولائی میں آنے والی ایک ایل این جی کھیپ منسوخ ہوگئی۔ اس منسوخی کے بعد متبادل کارگو کے حصول کو ضروری قرار دیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی ایل این جی مارکیٹ، شپنگ لاگت اور توانائی کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کو اضافی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان ہنگامی ایل این جی ٹینڈر حکومت کی جانب سے توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کا اہم حصہ ہے۔ حکام بولیوں کا جائزہ لینے کے بعد جلد از جلد کارگو کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ ملکی گیس سپلائی متاثر نہ ہو۔