ایران پر امریکی حملوں کے بعد تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ نئی فوجی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیا۔
عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 86 سینٹ یا 1.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 78.88 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 85 سینٹ یا 1.2 فیصد اضافے کے بعد 74.37 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
ماہرین کے مطابق تازہ امریکی حملوں نے جنگ بندی کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ توانائی کی منڈی میں سرمایہ کار اب اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہے گا۔
امریکی حکام کے مطابق فوج نے ایران کے ساحلی علاقوں میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ کارروائی میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل اور ڈرون ذخائر سمیت بحری تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کو محفوظ رکھنا ہے۔
اس سے قبل ایران امریکی کارروائیوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کر چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہ آبنائے ہرمز کی سلامتی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
علاقے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث شپنگ کمپنیاں اور انشورنس فراہم کرنے والے ادارے بھی محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی کی ترسیل، شپنگ اخراجات اور خام تیل کی قیمتیں مزید متاثر ہو سکتی ہیں۔
ایران پر امریکی حملوں کے بعد تیل کی قیمت میں اضافہ عالمی توانائی منڈی میں بڑھتی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک مشرق وسطیٰ میں صورتحال معمول پر نہیں آتی، خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔