غزہ بین الاقوامی استحکام فورس

اسرائیل نے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے داخلے کی منظوری دے دی

اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ کے مخصوص علاقوں میں بین الاقوامی فورس کے داخلے کی اجازت دینے کے لیے قانونی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ جنگ کے بعد غزہ میں سکیورٹی اور انتظامی معاملات سے متعلق ممکنہ اقدامات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سربراہی میں سکیورٹی کابینہ نے اتوار کے روز اس منصوبے کی منظوری دی، جس کے تحت ایک بین الاقوامی مشن کو غزہ میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

اس مشن کو "انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس” کا نام دیا گیا ہے، جس میں تقریباً 200 اہلکار شامل ہوں گے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس فورس میں دوست ممالک، جن میں یوگنڈا اور مراکش جیسے ممالک شامل ہیں، کے اہلکار شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق بین الاقوامی فورس ان علاقوں میں تعینات کی جائے گی جو اسرائیلی کنٹرول میں نہیں ہیں۔ تاہم ہر دستے کے غزہ میں داخلے کے لیے اسرائیل کی الگ منظوری ضروری ہوگی۔ تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ فورس کب عملی طور پر تعینات کی جائے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے۔

یہ پیش رفت گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سامنے آنے والے امریکی امن منصوبے کے پس منظر میں ہوئی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے میں انسانی امداد میں اضافہ، فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے ذریعے سول انتظام، حماس کا ہتھیار ڈالنا اور اسرائیلی افواج کے انخلا جیسے نکات شامل تھے۔

تاہم یہ منصوبہ تاحال مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ غزہ کے انتظام کے لیے قائم کی جانے والی نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ نامی ٹیکنوکریٹ تنظیم بھی ابھی تک علاقے سے باہر موجود ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس وقت اسرائیل غزہ کے تقریباً 64 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے، جبکہ تقریباً 20 لاکھ فلسطینی ساحلی پٹی کے محدود حصے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں انسانی صورتحال انتہائی خراب بتائی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی استحکام فورس کی منظوری کو غزہ کے مستقبل کے سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے کی جانب ایک ممکنہ قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ، اختیارات اور دائرہ کار سے متعلق کئی اہم سوالات اب بھی موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین