خام تیل کی قیمت

امریکی حملوں میں وقفے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوگیا

ایران کے خلاف امریکی حملوں میں وقفے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ تجزیہ کاروں نے اس کی وجہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور سپلائی سے متعلق خدشات کا کم ہونا قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر تقریباً دو ہفتوں سے جاری فوجی کارروائیوں میں وقفہ دینے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 5 فیصد سے زائد گر گئیں۔

رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 5.58 ڈالر یا 5.77 فیصد کمی کے بعد 91.20 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت 4.91 ڈالر یا 5.50 فیصد کم ہو کر 84.40 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی اور سفارتی حل کی امید نے سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی پیدا کی ہے، جس کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بھی کم ہوئے اور عالمی قیمتوں پر دباؤ آیا۔

ادھر امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 13 روز سے جاری حملوں میں وقفے کا حکم جمعے کو دیا گیا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ اقدام عارضی وقفہ ہے یا مستقل جنگ بندی کی جانب پیش رفت۔

ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز میں خطے کی صورتحال اور امریکا و ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی پیش رفت عالمی تیل کی قیمتوں کے رخ کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین