غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 73,100 کے قریب پہنچ گئی ہے کیونکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں مزید پانچ فلسطینی جان سے گئے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 73,098 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وزارت صحت کی روزانہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق غزہ کے مختلف اسپتالوں میں پانچ افراد کی لاشیں لائی گئیں۔ ان میں تین افراد حالیہ کارروائیوں میں جاں بحق ہوئے جبکہ دو لاشیں ملبے تلے سے نکالی گئیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید سات افراد زخمی بھی ہوئے، جس کے بعد مجموعی زخمیوں کی تعداد 173,571 تک پہنچ گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ متعدد متاثرین اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا ایسی سڑکوں پر موجود ہیں جہاں ایمبولینس اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں سکیورٹی صورتحال کے باعث نہیں پہنچ پا رہیں۔ امدادی کارروائیوں میں مسلسل مشکلات کا سامنا کیا جا رہا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 سے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔ وزارت نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے دوران بھی 1,072 فلسطینی جاں بحق اور 3,463 زخمی ہو چکے ہیں، جس سے علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔
جنگ کے باعث غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور رہائشی علاقوں، اسپتالوں اور دیگر اہم عمارتوں کی بڑی تعداد تباہ ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ کی تعمیر نو پر تقریباً 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔
انسانی امدادی اداروں نے خوراک، ادویات، طبی سامان، عارضی رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق امدادی سامان کی محدود رسائی کے باعث لاکھوں فلسطینی، خصوصاً بے گھر خاندان، انتہائی دشوار حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 73,100 کے قریب پہنچنے کے بعد عالمی انسانی حقوق اور امدادی تنظیمیں شہریوں کے تحفظ اور امدادی سامان کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال غزہ میں انسانی بحران کی سنگینی کو مزید نمایاں کر رہی ہے۔