پشاور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قائداعظم نامی شہری کو نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل بینچ نے شہری قائداعظم کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی، جس میں شناختی کارڈ کی بندش کو چیلنج کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قائداعظم ایک تاجر ہیں اور ان کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا ہے، جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس موقع پر نادرا کے ڈائریکٹر لیگل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا شناختی کارڈ مشکوک قرار دیے جانے کے باعث بلاک کیا گیا ہے۔ نادرا حکام نے شناختی کارڈ کی بندش کو قواعد و ضوابط کے مطابق قرار دیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست گزار قائداعظم نامی شہری کو نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی، تاکہ معاملے کا جائزہ لے کر مزید کارروائی کی جا سکے۔
نادرا شناختی کارڈ سے متعلق معاملات میں شہریوں کی شناخت کی تصدیق اور ریکارڈ کی جانچ ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے، جبکہ عدالتیں ایسے معاملات میں فریقین کو قانونی طریقہ کار کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔