کاکروچ جنتا پارٹی نے ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کرے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ گرفتار افراد کو رہا نہ کرنا عوامی اعتماد کو متاثر کرے گا۔
پیر کو جاری بیان میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کہا کہ اسے خاص طور پر آسام، مغربی بنگال اور بہار سے طلبہ کی گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار مظاہرین کو فوری رہا کیا جائے اور ان کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔
تنظیم نے کہا کہ اگر گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا یا مقدمات ختم نہ کیے گئے تو یہ عوام کے اعتماد کی خلاف ورزی ہوگی۔ سی جے پی نے مزید اقدامات کرنے کا عندیہ بھی دیا اگر اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید عوامی دباؤ کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔ ان واقعات نے لاکھوں طلبہ میں شدید بے چینی پیدا کی۔
🚨STATEMENT
We are deeply concerned by multiple reports reaching us of students and other protestors being targeted, detained, or arrested by various state agencies, particularly in Assam, West Bengal, and Bihar.
The Cockroach Janta Party had called off its nationwide protest…
— Saurav Das (@SauravDassss) July 27, 2026
مئی میں تعلقات عامہ کے گریجویٹ ابھیجیت دپکے کی جانب سے شروع کی گئی یہ تحریک ابتدا میں ایک طنزیہ آن لائن مہم تھی۔ بعد ازاں یہ امتحانی اصلاحات، نوجوانوں کے روزگار اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔
گزشتہ ہفتے نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں طلبہ نے احتجاج کیا اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران جھڑپوں کے بعد پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
پیر کو بھی یہ معاملہ بھارتی پارلیمنٹ میں زیر بحث رہا، جہاں اپوزیشن نے پولیس کارروائی پر حکومت سے جواب طلب کیا۔ دوسری جانب حکومت نے امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں پر مشتمل نیا قانون بھی ایوانِ زیریں میں پیش کر دیا، جبکہ امتحانی نظام کی شفافیت سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔