یوکرین نے ایران کی دھمکیاں مسترد کر دیں

یوکرین نے ایران کی دھمکیاں مسترد کر دیں

یوکرین نے ایران کی دھمکیاں مسترد کر دیں اور تہران پر روسی جارحیت میں براہِ راست شمولیت کا الزام عائد کیا ہے۔ یوکرینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے حالیہ بیانات بے بنیاد اور ناقابلِ جواز ہیں، جبکہ روس یوکرین کے خلاف جنگ میں ایرانی ساختہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

یوکرینی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ روس کی جانب سے ایرانی ساختہ ہتھیاروں کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران خود کو اس تنازع سے الگ یا متاثرہ فریق کے طور پر پیش نہیں کر سکتا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بحیرۂ اسود میں روسی حملے عالمی غذائی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ وزارت کے مطابق ان حملوں نے سمندری تجارت اور اناج کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچ رہے ہیں۔

یوکرین نے الزام عائد کیا کہ ایران روسی حملوں اور ان کے عالمی اثرات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیف کے مطابق اس قسم کے بیانات عالمی برادری کو اصل صورتحال سے دور رکھنے کی کوشش ہیں۔

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے حالیہ مؤقف حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یوکرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ روسی جارحیت میں ایران کے مبینہ کردار کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے کیف اور تہران کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ یوکرین مسلسل ایران پر روس کو فوجی سازوسامان فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران ماضی میں روس کو جنگ میں استعمال کے لیے ہتھیار فراہم کرنے اور براہِ راست شمولیت کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ یوکرین کا تازہ بیان دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی میں ایک اور اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین