ایک وقت تھا جب لوگ دیہات میں زندگی گزارنا پسند کرتے تھے ۔مٹی سے جڑے لوگوں کو مٹی کی خوشبو سے بھی عشق ہوا کرتا تھا ۔گاؤں میں رہنے والے لوگ کہا کرتے تھے کہ صاف اور صحت مند زندگی کا مرکز تو صرف گاؤں ہی ہے اور ایسا تھا بھی ۔۔اس وقت گاؤں میں نا صرف تازہ دودھ اور خالص مکھن و دیسی گھی میسر ہوا کرتا تھا بلکہ گاؤں کا پانی بھی صاف ہوا کرتا تھا ۔گاؤں کی آب و ہوا بھی رہنے کے قابل ہوا کرتی تھی ۔سڑکیں چاہے کچی تھیں لیکن بہتر حالت میں موجود تھیں جہاں سے تانگوں اور بیل گاڑی کا گزرنا مشکل نا تھا ۔پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کا آغاز ہوا ۔اس ترقی میں تانگوں کی جگہ رکشوں نے لے لی ۔بیل گاڑی کی جگہ بڑی بڑ ی اے سی بسوں نے لے لی۔اب جو ترقی کا دور شروع ہوا اس میں گاؤں اور اس کی صاف فضا اس کا خالص دودھ اور تازہ مکھن مسلسل پیچھے کی طرف جانا شروع ہو گئے اور بنیادی سہولیات کی تلاش میں لوگوں نے شہروں کا رخ شروع کر دیا ۔۔۔کیوں کہ اب شہروں میں پکی سڑکیں بننا شروع ہو گئیں ۔سیوریج کا نظام متعارف کرایا جانے لگا ۔گلیاں پکی کی جانے لگیں حتی کہ ہر وہ کام جو شہر میں رہنے والوں کی زندگیوں کو بہتر بنائے وہ کیا جانے لگا۔اس تبدیلی کے دوران جو بھی حکومت برسر اقتدار آتی اس کی توجہ کا مرکز بھی شہر بننے لگے ۔سب کو یہی لگتا تھا کہ ترقی کا حق تو صرف شہر میں رہنے والے لوگوں کو ہے ۔اگر کوئی سڑک بنانے کی بات ہوتی تو وہ شہر کی ۔اگر سیوریج کا معاملہ ٹھیک کرنا ہوتا تو وہ بھی شہر کا ہوتا ۔پبلک ٹرانسپورٹ کا رخ بھی ایک شہر سے دوسرے شہر تک محدود ہونے لگا ۔دیہاتوں سے تانگے ختم کیے گئے تاکہ وہاں جدید سفری سہولت سے آراستہ بسیں لائی جائیں لیکن بس والوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہاں نا سڑکیں اچھی ہیں اور نا ہی سیوریج کا نظام بہتر ہے اس لیے ہم اپنی بسیں دیہات میں نہیں لے کر جائیں گے۔ اب گاؤں والوں نے ان حالات کو دیکھے ہوئے شہرو ں کارخ اختیار کر لیا کیوں کہ جو کچھ بھی تھا اب شہروں میں تھا ۔اچھے اسکول ،اسپتال ،صاف گلیاں ،صاف پانی ،سیوریج کا بہتر نظام ۔

اب جب دیہات کے لوگوں نے شہروں کا رخ کیا تو شہر میں آبادی تو بڑھنا شروع ہو گئی لیکن وسائل کم ہونے لگے ۔جو وسائل ایک لاکھ کی آبادی کے لوگوں کے لیے تھے اسے 5 لاکھ لوگوں نے استعمال میں لانا شروع کر دیا اور پھرہوا کچھ یوں کہ مسائل بڑھنے لگے اور وسائل کم ہونے لگے ۔۔بہت سی حکومتیں اقتدار میں آئیں لیکن سب مسائل کا تعین کرنے میں ناکام رہیں لیکن آخر کار مریم نواز کی حکومت نے اس بار اقتدار میں آکر مسئلے کا حل نکال لیا اور مسئلے کی بنیادی وجہ پر کام کرنا شروع کر دیا ۔صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے وزیر اعلی کی توجہ دیہاتوں کو بہتر بنانے کی طرف مرکوز کی تو وزیر اعلی نے وزیر بلدیات کے اس پرپوزل کو سراہتے ہوئے مثالی گاؤں پراجیکٹ کا آغاز کر دیا ۔کیوں کہ اس حکومت کو اس بات کی سمجھ آگئی کہ اگر دیہات بہتر ہوں گے تو دیہات میں رہنے والے لوگوں کو شہر میں آنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ مثالی گاؤں کے اس پروجیکٹ پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ میاں شکیل نے ساری کاغذی کارروائی مکمل کرتے ہوئے اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے وزیراعلی کے سامنے پیش کیا ۔ اس منصوبے کے تحت پنجاب کے ہر گاؤں میں سیوریج کا نظام بہتر کیا جائے گا ۔ پہلے مرحلے میں پنجاب کے 485 دیہاتوں میں صاف پانی کے منصوبے ،سیوریج ،پارک اور گلیوں میں ٹف ٹائلز لگانے کا کام کیا جارہا ہے ۔جن میں ملتان ڈویژن کے63، راولپنڈی کے 58، گوجرانوالہ کے 55، گجرات کے51، لاہور/شیخوپورہ کے 50، بہاولپور کے 48، سرگودھا کے41 ، ساہیوال کے 44، ڈی جی خان کے 39 اور فیصل آباد ڈویژن کے 36 جبکہ مجموعی طور پر 12 سو دیہاتوں کو مثالی گاؤں بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 7500 دیہات شامل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں ہیں ۔ منصوبے کے چیف آپریٹنگ آفیسر علی رضا راؤ نےٹینڈ ر ز کے عمل میں شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے پروجیکٹ کی بہتری کے لیے مزید کوششیں شروع کر دیں ۔ چیف آپریٹنگ آفیسر علی رضا راؤکے مطابق ٹینڈر کا عمل جتنا صاف اور شفاف ہوگا مثالی گاؤں منصوبہ اتنا ہی خوبصورت ہوتا جائے گا ۔علی رضا راؤ نا صرف ٹینڈر کے معاملات دیکھتے ہیں بلکہ ٹینڈر حاصل کرنے والے ٹھیکہ داروں کے کام کی مکمل نگرانی بھی کرتے ہیں ۔ وزیراعلی کے حکم کے پر عمل کرتے ہوئے مثالی گاؤں کے تحت ہونے والے تمام امور کا جائزہ لیتے ہیں اور منصوبے میں استعمال ہونے والے مٹیریل کی کوالٹی چیک کرنے سے لے کر اسے مزید بہتر کرنے تک تمام امور خود انجام دیتے ہیں ۔ حکومت پنجاب کے تمام وزرا ء سیکرٹری اور بالخصوص مثالی گاؤں منصوبے کے سی اواو علی رضا راراؤ کا کہنا ہے کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ مثالی گاؤں ایسا منصوبہ بنا دیا جائے کہ جس کے بعد گاؤں میں رہنے والے کسی فرد کو شہر کا رخ کرنے کی ضرورت پیش نا آئے ۔ صاف پانی سے لے کر سیوریج کی بہتری تک اور پکی گلیوں سے لے کر صاف ستھرے پارکس تک اس قدر دلکش بنائے جائیں کہ شہر کے لوگ بھی اس پر رشک کریں ۔۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ممکن ہو جاتا ہے تو نا صرف شہر کے مسائل کم ہونگے بلکہ ملک خوشحالی کی طرف بھی جائے گا ۔ جب دیہات میں رہنے والوں کو تمام سہولیات اسی گاؤں میں ملیں گی تو وہ کیونکر شہروں کا رخ کریں گے ؟ اور اگر دیہات کے لوگوں نے شہروں کا رخ کرنا چھوڑ دیا تو نا توں شہروں کی آبادی میں اضافہ ہو گا اور نا ہی وسائل کی کمی کا سامنا ہوگا ۔ ۔
