بھارت نے یوکرینی سفیر کو طلب کر لیا

بھارت نے بحیرہ اسود حملے پر یوکرینی سفیر کو طلب کرلیا

بھارت نے یوکرینی سفیر کو طلب کر لیا ہے، کیونکہ بلیک سی میں ایک تجارتی بحری جہاز پر حملے کے نتیجے میں ایک بھارتی شہری ہلاک ہوگیا۔ نئی دہلی نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجارتی جہازوں پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق پیر کے روز یوکرین کے سفیر اولیکساندر پولشچک کو طلب کیا گیا تاکہ 18 جولائی کو ایم وی اومفورفی پر ہونے والے حملے پر بھارت کے تحفظات سے آگاہ کیا جا سکے۔

وزارت نے بتایا کہ جہاز پر تین بھارتی شہری موجود تھے، جن میں سے ایک حملے میں جان کی بازی ہار گیا۔ بھارت نے کہا کہ بے گناہ شہری ملاحوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔

بھارتی حکام نے یوکرینی سفیر سے کہا کہ وہ کیف کو یہ پیغام پہنچائیں کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو شہری ملاحوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالیں۔ وزارت نے تجارتی جہازوں پر حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت بھی کی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے بھارت نے روسی سفیر کو بھی طلب کیا تھا۔ اوڈیسا بندرگاہ سے روانہ ہونے والے ایک مال بردار جہاز پر حملے میں چار بھارتی شہری ہلاک ہوگئے تھے، جس پر نئی دہلی نے احتجاج کیا تھا۔

بھارت دنیا میں مرچنٹ نیوی کے لیے سب سے زیادہ ملاح فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2025 میں 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد بھارتی ملاح عالمی تجارتی جہاز رانی کے شعبے میں خدمات انجام دے رہے تھے، جبکہ حالیہ حملوں کے بعد حکومت نے متعدد سیکیورٹی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران بحری جہازوں پر حملوں میں مزید 14 بھارتی ملاح بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان واقعات نے جنگ زدہ سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں اور شہری عملے کی حفاظت سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین