خواجہ آصف راجناتھ سنگھ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بیانات سیاسی بیان بازی کے ذریعے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی مسلسل کوشش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات نہ تو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی خطے میں امن، استحکام یا بامعنی مذاکرات کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارت کی مسلسل کوششیں اس کے اپنے مبینہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے ریکارڈ کی وجہ سے ناقابلِ اعتبار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت کی جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیاں پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق اس قسم کی بیان بازی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور بین الریاستی تنازعات کے خدشات میں اضافہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے، تاہم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اس کا عزم غیر متزلزل ہے اور اسے کبھی کمزور نہ سمجھا جائے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کی حالیہ بیان بازی دراصل بھارت کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، عوامی بے چینی اور وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں۔