فرانس اور اسپین میں جنگلاتی آگ بدستور تیزی سے پھیل رہی ہے جبکہ نئی ہیٹ ویو کی پیش گوئی نے حکام کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دونوں ممالک میں آگ پر قابو پانے کے لیے ہزاروں اہلکار اور فضائی وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
جنوب مغربی فرانس کے بورڈو اور وسطی اسپین کے میڈرڈ کے اطراف جنگلات میں لگنے والی آگ حالیہ برسوں کی بدترین آفات میں شمار کی جا رہی ہے۔ شدید گرمی اور کئی ماہ سے بارش نہ ہونے کے باعث جنگلات انتہائی خشک ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک تین لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں اور سیاحتی مقامات سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ متعدد خاندانوں نے صرف ضروری دستاویزات اور چند کپڑے لے کر محفوظ علاقوں کا رخ کیا۔
فرانس کے گیروندے علاقے میں آگ نے ایک نایاب فائر کلاؤڈ یا پائروکیومولونمبس تشکیل دیا، جو اپنی ہوائیں، بجلی اور خطرناک موسمی اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فرانس میں اس نوعیت کا واقعہ پہلی بار دیکھا گیا ہے۔
ہزاروں فائر فائٹرز خصوصی طیاروں کی مدد سے آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے جبکہ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔
اسپین کی سول پروٹیکشن سربراہ ورجینیا بارکونیس نے ایویلا کے قریب آگ کو "عفریت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے تقریباً 280 کلومیٹر کے دائرے اور 77 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کئی مقامات پر آگ اب بھی بے قابو ہے۔
ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ منگل سے فرانس میں ایک نئی ہیٹ ویو شروع ہو سکتی ہے جہاں بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ان آتشزدگیوں میں اسپین میں ایک شہری اور فرانس میں دو فائر فائٹرز جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ ماہرین موسمیاتی تبدیلی کو ایسے شدید واقعات کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔