پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر الیکشن نتائج مسترد کرتے ہوئے پہلے مرحلے کے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ پارٹی نے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے عدالتی تحقیقات اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹرن آؤٹ پانچ فیصد سے بھی کم رہا، جو ان کے مطابق آئینی سوالات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر عوامی مسائل کے بجائے اقتدار کی سیاست کا الزام لگایا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی انتخابی نتائج کو مسترد کرتی ہے اور آزاد کشمیر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی عدالتی تحقیقات چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کیا۔
پی ٹی آئی رہنما نے الزام لگایا کہ پارٹی رہنماؤں کو آزاد کشمیر جانے سے روکا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی نمائندوں کو عوام سے رابطے کی اجازت نہیں ہوگی تو خطے میں امن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے۔
گوہر علی خان نے دعویٰ کیا کہ 27 جولائی کے انتخابات شفاف نہیں تھے اور مسائل کا حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ مذاکرات سے ممکن ہے۔ انہوں نے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوامی رائے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور لوگوں کی آواز سنی جانی چاہیے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے آزاد کشمیر حکومت کے استعفے، قومی حکومت کے قیام اور پورے خطے میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب 2026 کے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق ن لیگ نے میرپور ڈویژن کی 13 میں سے 9 نشستیں حاصل کیں۔