امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوسوف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اپنی حکومتی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کے بجائے وائٹ ہاؤس میں بال روم بنانے اور اپنی معاون کے ساتھ سفر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ سینیٹر کے بیان نے امریکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
جان اوسوف نے الزام عائد کیا کہ صدر ٹرمپ ملک کے اہم معاملات پر کام کرنے کے بجائے وائٹ ہاؤس میں بال روم کی تعمیر پر توجہ دے رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک سینیٹر نے صدر کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی سرکاری ذمہ داریوں کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔
سینیٹر اوسوف نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اپنی ایگزیکٹو اسسٹنٹ نیٹالی ہارپ کے ساتھ سفر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے صدر کے سفر اور معاون کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ پر سیاسی تنقید کی، تاہم ان کے بیان کے بعض حصوں پر وائٹ ہاؤس نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
وائٹ ہاؤس نے جان اوسوف کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے جنسی امتیاز اور بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق کسی خاتون معاون کے پیشہ ورانہ کردار کو اس انداز میں زیر بحث لانا نامناسب ہے اور اس سے ان کے بارے میں غیر ضروری تاثر پیدا ہوتا ہے۔
نیٹالی ہارپ کون ہیں؟
نیٹالی ہارپ صدر ٹرمپ کی ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں صدر کے روزمرہ امور میں معاونت، رابطہ کاری اور کمیونیکیشن مینجمنٹ سمیت مختلف انتظامی معاملات شامل ہیں۔ صدر کے ساتھ ان کی پیشہ ورانہ قربت کے باعث ان کا نام حالیہ دنوں میں امریکی میڈیا میں بھی زیر بحث آیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیٹالی ہارپ نے مبینہ طور پر 2023 میں ٹرمپ کو متعدد تعریفی اور ذاتی نوعیت کے خطوط لکھے تھے۔ ایک مبینہ خط کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ہارپ نے ٹرمپ کو اپنی زندگی میں انتہائی اہم قرار دیا تھا۔ تاہم ان دعوؤں کو متعلقہ رپورٹس کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور ہر الزام کو الگ سے قابلِ اعتماد ذرائع سے جانچنا ضروری ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق نیٹالی ہارپ صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں میں بھی معاونت کرتی ہیں اور بعض پوسٹس کے لیے صدر کی ہدایات زبانی طور پر نوٹ کرکے انہیں تحریری شکل دیتی ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ترکیے سے واپسی کے دوران ٹرمپ کی جانب سے ایئر فورس ون کے بجائے ایک چھوٹے طیارے میں سفر کیے جانے کے موقع پر نیٹالی ہارپ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔