امریکا کے ایران کے آئی آر جی سی اہداف پر حملے

امریکا کے ایران میں آئی آر جی سی کے درجنوں ٹھکانوں پر بڑے فضائی حملے

امریکا کے ایران کے آئی آر جی سی اہداف پر حملے اس وقت کیے گئے جب ایران نے اردن میں موجود امریکی فوجیوں پر بیلسٹک میزائل داغے۔ امریکی فوج کے مطابق دو گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے متعدد کمانڈ مراکز اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے قشم جزیرے پر تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی آدھی رات کے بعد شروع ہوئی اور دو گھنٹوں میں مکمل کر لی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد امریکی افواج، تجارتی جہازوں اور خلیجی ممالک کو درپیش خطرات میں کمی لانا تھا۔ سینٹ کام نے یہ بھی بتایا کہ اردن میں امریکی اڈوں کی جانب داغے گئے تمام ایرانی میزائل روک لیے گئے۔

خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اردن کی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایران کی جانب سے داغے گئے پانچ میزائل تباہ کر دیے۔ اس سے قبل امریکا اور سعودی عرب نے مشرقی عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی بھی کی، جسے سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کا جواب قرار دیا گیا۔

ادھر مصر کی بحیرہ روم کی بندرگاہ دمیاط میں امریکی ملکیت کے گیس ذخیرہ کرنے والے ایک ٹینکر میں آگ لگ گئی۔ ایک بحری سکیورٹی کمپنی نے ڈرون حملے کا امکان ظاہر کیا، تاہم مصری حکام نے صرف آگ لگنے کی تصدیق کی اور ذمہ دار فریق کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

امریکا کے ایران کے آئی آر جی سی اہداف پر حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کا دعویٰ کیا ہے اور عمان کی جانب سے پیش کردہ خلیجی منصوبہ مسترد کر دیا ہے، جس سے عالمی بحری تجارت پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

تازہ صورتحال کے بعد عالمی تیل منڈی بھی شدید متاثر ہوئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، تاہم اگلے روز معمولی کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق خلیجی سپلائی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی منڈیوں کے لیے اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔

تازہ امریکی کارروائیوں اور ایران کے ردعمل نے مشرق وسطیٰ کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عراق، اردن، مصر، سعودی عرب اور ایران اس تنازع کے اثرات سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود خطے میں کشیدگی کم ہونے کے آثار ابھی واضح نہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین