غزہ میں اسرائیلی حملے جمعرات کو مزید جانی نقصان کا باعث بنے، جہاں دو بچوں سمیت کم از کم تین فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ثالثی کرنے والے ممالک جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
طبی ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں خیموں پر کیے گئے ایک فضائی حملے میں ایک شخص اور آٹھ سالہ بچی جاں بحق ہوگئے۔ دوسری جانب وسطی غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ میں ایک رہائشی مکان پر حملے کے نتیجے میں 18 ماہ کا ایک بچہ جان سے گیا جبکہ کم از کم آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ دونوں حملوں کا ہدف حماس سے متعلق مقامات تھے۔ غزہ کے صحت حکام کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔
ادھر قاہرہ میں حماس کے رہنما مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد، انسانی امداد میں اضافہ، اسرائیلی افواج کے انخلا، فلسطینی سول انتظامیہ اور بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی جیسے نکات زیر غور آئے۔
حماس کے ایک عہدیدار نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا، تاہم مکمل غیر مسلح ہونے کے بارے میں واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ذرائع کے مطابق حماس بھاری ہتھیار کسی فلسطینی ادارے کی نگرانی میں رکھنے پر آمادہ ہو سکتی ہے، لیکن انہیں اسرائیل کے حوالے کرنے پر رضامند نہیں۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ مستقل امن کے لیے حماس کو غزہ میں اقتدار چھوڑنا اور مکمل طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا۔ اگرچہ حماس نے گزشتہ ماہ اپنی انتظامی حکومت تحلیل کر دی تھی، تاہم بنیادی عوامی خدمات برقرار رکھنے کے لیے ایک عبوری انتظام برقرار رکھا گیا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی حملے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ بندی ابھی بھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے۔ انسانی بحران، سکیورٹی خدشات اور سیاسی اختلافات کے باعث مذاکرات کو کامیاب بنانا اب بھی ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔