پاسداران انقلاب کا جوابی حملہ

امریکی حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا جوابی کارروائی کا اعلان

پاسداران انقلاب کا جوابی حملہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ پیش رفت بن گیا ہے۔ امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان حملوں کا جواب دے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق آئی آر جی سی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "اللہ کی مدد سے آج جارح کو سزا دی جائے گی۔” تاہم بیان میں کسی ممکنہ کارروائی کی نوعیت، مقام یا وقت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

یہ اعلان امریکی فوج کی جانب سے گزشتہ شب جنوبی ایران میں متعدد فوجی اہداف پر کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی میں فوجی کمانڈ مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی مراکز اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق قشم، کیش، بندر عباس، آبادان اور بوشہر سمیت مختلف جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بعض رپورٹس میں رہائشی علاقوں کے متاثر ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا، تاہم ان تمام اطلاعات کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ جنوبی ایران میں حملوں کے دوران ایک میاں، بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ جزیرہ قشم میں ایک رہائشی عمارت متاثر ہوئی، جہاں متعدد بچے زخمی ہوئے جبکہ ایک بچے کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔

پاسداران انقلاب کا جوابی حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف علاقائی ممالک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن حالیہ فوجی کارروائیوں نے امن کی امیدوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

تازہ پاسداران انقلاب کا جوابی حملہ کے اعلان نے پورے خطے میں تشویش بڑھا دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریق تحمل کا مظاہرہ نہ کریں تو مشرق وسطیٰ میں تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین